شیعه خبر

خرید بک لینک
ایران-چین تزویراتی تعاون کی 25 سالہ دستاویز / تعارفی جائزہایران-چین جامع تعاون پروگرام کے دو فریق ہیں اور یہ فریقین کے لئے یکسان اہمیت رکھتا ہے اور اس کی دونوں کو ضرورت ہے۔ توانائی کی حفاظت ہمیشہ سے چینی پالیسی سازوں کی ترجیحات میں، اور تیل اور گیس کے ذخائر سے مالامال ممالک کے ساتھ کے ساتھ تعلقات کی تقویت اس کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ایجنڈے میں، شامل رہی ہے۔ تاہم گذشتہ برسوں میں ایران سمیت مختلف ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات "امریکہ کے ساتھ عدم تناؤ کی پالیسی" پر استوار تھے۔ چونکہ عرصۂ دراز سے امریکی پالیسی "سب کچھ سوا ایران کے" کی حکمت عملی پر استوار تھی، لہذا ایران کے ساتھ چین کے تعاون میں، امریکہ کے ساتھ وسیع تجارتی تعلقات کو زک نہ پہنچنے کو مدنظر رکھا جاتا تھا۔ لیکن جس وقت امریکہ نے تيانانمن (Tiananmen) اسکوائر کے واقعات کے بعد چین پر پابندیاں لگائیں تو ایران-چین تعلقات کے بہترین دور کا آغاز ہؤا اور آج بھی چینی اشخاص اور کمپنیوں پر امریکی پابندیاں اسی دور کو پلٹا سکتی ہیں۔ گوکہ آج حالات مختلف ہیں اور چینی معیشت میں ایک طاقتور طبقہ موجود ہے جو کمیونسٹ پارٹی میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور اس نے امریکہ میں وسیع سرمایہ کاری کی ہے اور کسی صورت میں بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کا خواہاں نہیں ہے؛ تاہم چین ایرانی تیل اور گیس کی عظیم استعداد اور اور اس کی جُغ-سیاسی حیثیت کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتا اور سعودیہ کے ساتھ وسیع تعاون کے باوجود، چین نے توانائی کا پیاسا ہوتے ہوئے کبھی بھی ایران کے ساتھ تعلقات کو کبھی بھی خراب نہیں ہونے دیا ہے۔ اور پھر ہندوستان چین کا رقیب ہوتے ہوئے چابہار کی ترقی میں ایران کے ساتھ تعاون کررہا ہے اور یوں وہ چین کے لئے ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دش شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 121 تاريخ: دوشنبه 25 بهمن 1400 ساعت: 16:03

ایران-چین تعاون کا پس منظر / ابتدائے سخن:ایران-چین 25 سالہ معاہدہ پہلے بھی موجود تھا اور حال ہی میں طے شدہ پروگرام نیا نہیں ہے۔ چینی کمپنیاں سنہ 2000ء کے عشرے میں ایران کے گیس کے شعبے میں سرگرم عمل ہوئی تھیں۔ سنہ 2004ء میں چینی سائنوپیک گروپ (Sinopec Group) نے جنوبی پارس گیس فیلڈز سے ایل این جی کی تیاری اور برآمدات کی غرض سے ایران کے ساتھ 100 ارب ڈالر کے 25 سالہ معاہدے پر دستخط کئے تھےسنہ 2006ء میں سمندری تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے گروپ چینی قومی ماورائے ساحل تیل کارپوریشن (China National Offshore Oil Corporation [CNOOC]) نے ایران کے شمالی پارس گیس فیلڈ کی ترقی اور چین کو برآمد کرنے کے لئے ایل این جی کی تیاری کے لئے، ایران کے ساتھ 16 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے، جس کے تین سال بعد چین کی قومی تیل کمپنی نے جنوبی پارس گیس فیلڈ کی ترقی کے لئے ایران کے ساتھ 4.7 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے اور فرانس کی ٹوٹل کمپنی کے متبادل کے طور پر میدان میں آکر ملائشیا کی پٹروناس کمپنی کی شریک کار بن گئی۔ نیز چینی کمپنیاں ایران کی خام تیل اور خام گیس کی صفائی اور مارکیٹنگ کے شعبے میں داخل ہوئیں۔ 2012ء میں پابندیوں میں شدت آنے سے پہلے ہی خام تیل اور خام گیس کی صفائی کے سلسلے میں ایران کو مسائل کا سامنا تھا اور شازند، آبادان اور بندرعباس کی ریفائنریوں کو تعمیر نو کی ضرورت تھی۔ جون 2009ء میں ایران کی قومی تیل کمپنی نے چین کی تین بڑی کمپنیوں (سائنوپیک، چین کی قومی تیل کمپنی اور چینی قومی ماورائے ساحل تیل کارپوریشن [CNOOC]) کو سات ریفائنریوں اور 1600 کلومیٹر کی ایک پائپ لائن کی تعمیر کے ایک منصوبے میں شرکت کی دعوت دی جس کی لاگت 42.8 ارب ڈالر بنتی تھی۔ ایک ماہ بعد چینی کمپنیوں کے کنسورشیم ن شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 124 تاريخ: دوشنبه 25 بهمن 1400 ساعت: 16:03

حبیب اور مسلم بن عوسجہ ان لوگوں میں سے تھے جو مسلم بن عقیل علیہ السلام کے لئے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور پورے عشق و شیدائی کے ساتھ ان کی پشت پناہی کررہے تھے۔تفصیل کے لئے لنک: شہید کربلا حبیب بن مظاہر اسدیhttps://ur.abna24.com/news//شہید-کربلا-حبیب-بن-مظاہر-اسدی_1172117.html شیعه خبر ...

ما را در سایت شیعه خبر دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 92 تاريخ: دوشنبه 25 بهمن 1400 ساعت: 16:03

صفحه بندی